کہیں بھائی جل رہے ہیں
کہیں جنگ کے میدان میں ناچنے والے ناچ رہے ہیں اور کہیں لڑتے لڑتے میدان جنگ میں اتر چکے ہیں، کہیں بھیرو زور زور سے چیخ رہے ہیں اور کہیں خوفناک کوے اڑ رہے ہیں۔
ڈھول، مریدنگا اور نگرے بجا رہے ہیں۔
کنس، اپانگ اور پھلیاں کھیل رہی تھیں۔
مرلی، ناد، نفری (سامان وغیرہ) بجا رہے تھے۔
چھوٹے بڑے ڈھول، بگل، بانسری وغیرہ سب بج رہے ہیں، پائپ اور فائی بھی بجائی جا رہی ہے اور جنگجو خوف زدہ ہو کر بھاگ رہے ہیں۔301۔
عظیم ہیروز اس جگہ پر لڑے ہیں۔
اندرا کے گھر میں افراتفری مچ گئی۔
بیرکوں (جھنڈوں یا لینس) اور تیر آسمان پر لگے ہوئے ہیں۔
اس میدان جنگ میں عظیم جنگجو شہید ہوئے اور اندرا کے ملک میں ہنگامہ برپا ہو گیا، نیزے اور تیر ساون کے بادلوں کی طرح دنیا میں پھیل گئے۔302۔
تومر سٹانزا
طاقتوروں کو بہت غصہ آیا۔
کمانیں کھینچی جاتی ہیں اور تیر چھوڑے جاتے ہیں۔
جس کے اعضاء تیروں سے چھید
کئی طرح سے مشتعل ہو کر جنگجو اپنی کمانیں کھینچ کر تیر چھوڑ رہے ہیں، جس کو بھی یہ تیر لگتے ہیں، وہ جنت کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔303۔
کہیں اونچے قد کے (جنگجوؤں کے) اعضاء گر گئے ہیں۔
کہیں تیروں اور تیروں کا حسین رنگ (دکھایا)۔
کہیں جنگجوؤں کی زرہ بکتر (پڑی ہوئی ہے)۔
کہیں کٹے ہوئے اعضاء کے ڈھیر پڑے ہیں اور کہیں تیر اور تلواریں پڑی ہیں، کہیں لباس نظر آتے ہیں، کہیں نیزے اور کہیں فولاد کے زرہ بکتر۔304۔
میدانِ جنگ میں اس طرح رنگے جاتے ہیں
جیسا کہ (جیسے) کاجو کے پھول (کھل رہے ہیں)۔
ایک (جنگجو) اس طرح لڑتے ہوئے مر جاتا ہے،
جنگجو کنسک کے پھولوں کی طرح جنگ کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں، ان میں سے کچھ لڑتے لڑتے ایسے مر رہے ہیں جیسے ہولی کھیل رہے ہوں۔305۔
وہ جلدی میں آتے ہیں،