ناپاک ذہانت اور برے لوگوں کی صحبت ہوس اور جذبہ پیدا کرتی ہے لیکن سچے گرو کی تعلیمات کو اپنانا انسان کو نظم و ضبط اور پاکباز بنا دیتا ہے۔
ناپاک حکمت انسان کو غصے کے زیر اثر نفرت اور لالچ کی لہروں میں پھنسا دیتی ہے، جب کہ اولیاء کی صحبت میں وہ عاجزی، صبر اور مہربانی حاصل کرتا ہے۔
بنیادی حکمت والا شخص ہمیشہ مایا کی محبت میں مگن رہتا ہے۔ وہ مغرور اور مغرور ہو جاتا ہے۔ لیکن سچے گرو کی ذہانت سے انسان نرم مزاج، مہربان، عاجز اور متقی بن جاتا ہے۔
ناپاک عقل والا بنیادی اعمال میں مشغول رہتا ہے اور دشمنی میں مبتلا رہتا ہے۔ اس کے برعکس گرو سے آگاہ شخص دوستانہ اور اچھے مزاج کا ہوتا ہے۔ زندگی میں سب کی بھلائی اور بھلائی اس کا مشن ہے، جب کہ ناپاک عقل کا آدمی