اے دوست! محبوب کا حسین روپ دیکھ کر میں بے ہوش ہو گیا تھا۔ اپنے باطن میں اس چمکتے چہرے کو دوبارہ دیکھ کر، میرا باطنی شعور مستحکم امن کی طرف لنگر انداز ہو گیا ہے۔
اے دوست! جس کے باطن کی باتیں سن کر میرے کان رونق میں آگئے تھے، اب اسی زبان سے شعلہ بیان الفاظ میرے شعور میں داخل ہو رہے ہیں، میرا باطن اس کے نام سمرن میں مگن ہو گیا ہے۔
جس پیارے رب سے دعائیں مانگتے میری زبان تھک گئی تھی، میں اس رب کو دل کے بستر پر بلانے کے لیے نہ رکنے کی دعا کر رہا ہوں۔
جس طرح کوئی نشہ آور چیز پینے سے تمام شعور و ہوش ختم ہو جاتا ہے، (انسان بے ہوش ہو جاتا ہے) اب اسے نام امرت کی صورت میں پینے سے یہ باطنی شعور کا ذریعہ بن گیا ہے۔ (666)