کبیت سوائیے بھائی گرداس جی

صفحہ - 567


ਜੈਸੇ ਪੇਖੈ ਸ੍ਯਾਮ ਘਟਾ ਗਗਨ ਘਮੰਡ ਘੋਰ ਮੋਰ ਔ ਪਪੀਹਾ ਸੁਭ ਸਬਦ ਸੁਨਾਵਹੀ ।
jaise pekhai sayaam ghattaa gagan ghamandd ghor mor aau papeehaa subh sabad sunaavahee |

جس طرح مور اور پرندے آسمان پر سیاہ بادلوں کو دیکھ کر اور ان کی گرج سن کر خوش کن آوازیں نکالتے ہیں۔

ਜੈਸੇ ਤੌ ਬਸੰਤ ਸਮੈ ਮੌਲਤ ਅਨੇਕ ਆਂਬ ਕੋਕਲਾ ਮਧੁਰ ਧੁਨਿ ਬਚਨ ਸੁਨਾਵਹੀ ।
jaise tau basant samai maualat anek aanb kokalaa madhur dhun bachan sunaavahee |

جس طرح آم اور بہت سے دوسرے درخت بہار کے موسم میں کھلتے ہیں، جب کویل ان درختوں پر بیٹھ کر بہت خوش ہو جاتی ہیں اور بہت میٹھی آوازیں نکالتی ہیں۔

ਜੈਸੇ ਪਰਫੁਲਤ ਕਮਲ ਸਰਵਰੁ ਵਿਖੈ ਮਧੁਪ ਗੁੰਜਾਰਤ ਅਨੰਦ ਉਪਜਾਵਹੀ ।
jaise parafulat kamal saravar vikhai madhup gunjaarat anand upajaavahee |

جس طرح کنول کے پھول تالاب میں کھلتے ہیں جو بھنور کی مکھیوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں جو خوشگوار آوازیں نکالتی ہوئی آتی ہیں۔

ਤੈਸੇ ਪੇਖ ਸ੍ਰੋਤਾ ਸਾਵਧਾਨਹ ਗਾਇਨ ਗਾਵੈ ਪ੍ਰਗਟੈ ਪੂਰਨ ਪ੍ਰੇਮ ਸਹਜਿ ਸਮਾਵਹੀ ।੫੬੭।
taise pekh srotaa saavadhaanah gaaein gaavai pragattai pooran prem sahaj samaavahee |567|

اسی طرح سامعین کو اکیلا ذہن میں بیٹھے دیکھ کر گلوکار گہری عقیدت اور توجہ کے ساتھ الٰہی گیت گاتے ہیں جس سے گلوکاروں اور سامعین دونوں کو الہی جوش و خروش میں جذب کر کے محبت بھرے سکون کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ (567)