صرف وہی رب کی محبت کی عظمت کی تعریف کر سکتا ہے جو اس کا تجربہ کرتا ہے۔ یہ بالکل ایسے شرابی کی طرح ہے جسے دنیا پاگل سمجھتی ہے۔
جس طرح میدانِ جنگ میں زخمی سپاہی سرخ آنکھوں کے ساتھ گھومتا ہے، اسی طرح وہ دوستی اور دشمنی کے جذبات کو خاک میں ملا دیتا ہے۔
خُدا کی محبت سے مگن ہو کر رب کی ناقابلِ بیان خصلتوں کی مسلسل تلاوت کی وجہ سے اُس کی گفتگو امرت جیسی ہوتی ہے۔ وہ خاموشی اختیار کرتا ہے اور باقی تمام خواہشات سے پاک ہے۔ وہ کسی سے بات نہیں کرتا اور رب کے نام کی مٹھاس کا مزہ لیتا رہتا ہے۔
وہ اپنی تمام خواہشات کو لپیٹ میں رکھتا ہے۔ اس کی تعریف اور توہین سب ایک جیسی ہے۔ نام کی حماقت میں وہ عجائبات اور عجائبات کی زندگی بسر کرتے نظر آتے ہیں۔ (173)