بلاول، پانچواں مہر:
جسم، دماغ، مال سب کچھ اپنے رب کے سپرد کرتا ہوں۔
وہ کون سی حکمت ہے جس سے میں رب، ہر، ہر کا نام لینے آؤں؟ ||1||
امید کی پرورش کرتے ہوئے، میں خدا سے بھیک مانگنے آیا ہوں۔
تجھے دیکھ کر میرے دل کا آنگن آراستہ ہے۔ ||1||توقف||
کئی طریقے آزماتے ہوئے، میں رب پر گہرائی سے غور کرتا ہوں۔
ساد سنگت میں، حضور کی صحبت میں، یہ ذہن محفوظ ہے۔ ||2||
میرے پاس نہ ذہانت ہے، نہ عقل ہے، نہ عقل ہے نہ ہوشیاری۔
میں تجھ سے ملتا ہوں، صرف اس صورت میں جب آپ مجھے آپ سے ملنے کی راہنمائی کریں۔ ||3||
میری آنکھیں مطمئن ہیں، خدا کے درشن کے بابرکت نظارے کو دیکھ رہی ہیں۔
نانک کہتے ہیں، ایسی زندگی ثمر آور اور فائدہ مند ہے۔ ||4||4||9||
بلاول بڑی خوشی کے جذبات کو بیان کرتا ہے جو کسی مقصد کو حاصل کرنے یا کسی مقصد کو حاصل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ تکمیل، اطمینان اور خوشی کا ایک زبردست احساس ہے، جس کا تجربہ اس وقت ہوتا ہے جب کامیابیاں آپ کے لیے بہت اہم اور عزیز ہوں۔ جو خوشی محسوس کی جاتی ہے وہ بلند آواز میں ہنسنے کی طرح ہے، اس میں کوئی منصوبہ بندی یا کوئی مقصد نہیں ہے۔ یہ کامیابی کے احساس سے پیدا ہونے والی دلی خوشی کا فطری اظہار ہے۔